تحریر:پروفیسر ڈاکٹرعبدالماجد ندیم
جامعہ پنجاب لاہور
خلاصہ مضامین قرآن مجید
سترھواں پارہ 🌹اقْتَرَبَ لِلنَّاس🌹
سترھواں پارہ دو مكمل صورتوں پر مشتمل ہے ،سورة الأنبیاء اور سورة الحج۔ لہذا اس پارے كا خلاصہ ہم دو حصوں میں پیش كریں گے ، (۱) ”سورة الأنبیاء“ مكمل (۲) ”سورة الحجّ“مكمل
سورة الأنبیاء میں سات ركوع ہیں جو ۱۱۲ آیات پر مشتمل ہیں ۔ اور سورة الحج میں ۷۸ آیات پر مشتمل ۱۰ ركوع ہیں۔
اس طرح سترھویں پارے میں مجموعی طور پر سترہ ركوع ہیں ، جن میں ۱۹۰ آیات ہیں۔
🌹پہلا حصہ –سورة الأنبیاء ، مكمل، ۱۱۲ آیات 🌹
سورة الأنبیاء میں تین نمایاں نكات ہمارے سامنے ہیں :
۱. قیامت ۲. رسالت ۳. توحید
۱. قیامت
سترھویں بارے كی ابتدا ہی اس نكتے سے ہو رہی ہے كہ قیامت كا وقوع یعنی حساب كا وقت بہت قریب آ گیا ہے ، جب كہ انسانوں كی حالت یہ ہے كہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ نیز سورت كے آخری چوتھائی حصے میں یہ بتایا گیا ہے كہ قربِ قیامت میں یاجوج اور ماجوج كو كھول دیا جائے گا اور وہ بلندی سے سے اتر رہے ہوں گے۔ (۹۶) اور جب وہ وقت آ جائے گا تب كافر پھٹی آنكھوں كے ساتھ سب منظر دیكھ رہے ہوں گے اور انھیں اپنی غفلت اور زیادتیوں كا شدید احساس ہو گا۔لیكن اس وقت اعلان ہو جائے گا كہ تم اور تمھارے معبود (اصنام/ اسباب شرك ) دوزخ كا ایندھن بنیں گے۔ (۹۸) جہنم كی ہولناكی اور پھر نیكو كار لوگوں كے حسن انجام كا ذكر ہے ۔
۲. رسالت
پہلی آیت میں انسان كی غفلت كے بیان كے فورًا بعد ہی دوسری آیت میں غفلت كی وضاحت ہے كہ وہ اللہ تبارك وتعالی كی طرف سے رسول كی تشریف آوری پر ان كے پیغام پر توجہ نہیں كرتے اور ان كو ڈی گریڈ كرنے كی كوشش كرتے ہیں ۔ اسی طرح رسالت كے ضمن میں ہی تمام رسولوں كے مشتركہ پیغام توحید كا ذكرہے،(آیت ۲۵) اور سترہ انبیائے كرام علیھم السلام كا تذكرہ ہمیں اس سورت میں ملتا ہے: (۱) حضرت موسی علیہ السلام ، (۲) حضرت ہارون علیہ السلام،(۳) حضرت ابراہیم علیہ السلام، (۴) حضرت لوط علیہ السلام، (۵) حضرت اسحاق علیہ السلام، (۶) حضرت یعقوب علیہ السلام، (۷) حضرت نوح علیہ السلام، (۸) حضرت داؤد علیہ السلام، (۹) حضرت سلیمان علیہ السلام، (۱۰) حضرت ایوب علیہ السلام، (۱۱) حضرت اسماعیل علیہ السلام، (۱۲) حضرت ادریس علیہ السلام، (۱۳) حضرت ذو الكفل علیہ السلام، (۱۴) حضرت یونس علیہ السلام، (۱۵) حضرت زكریا علیہ السلام، (۱۶) حضرت یحی علیہ السلام ، (۱۷) حضرت عیسی علیہ السلام۔
ان سترہ میں سے كچھ انبیائے كرام علیھم السلام كے قصے قدرے تفصیل سے بیان كیے گئے ہیں اور باقیوں كا اجمالی ذكر ہے ۔ انبیائے سابقین كے قصے بیان كرنے كے بعد بتایا گیا ہے كہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم دین اور دنیا میں سارے جہانوں كے لیے رحمت ہیں ۔ آپ نے اللہ كا پیغام انسانوں تك پہنچا دیا ، مگر جب ہر قسم كے دلائل پیش كرنے كے بعد بھی لوگ نہ سمجھے تو آپ نے اللہ سےدعا كی، اسی دعا پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، دعا یہ ہے : ((ربّ احكم بالحقِّ وربُّنا الرحمن المستعان علی ما تصفون)) اے میرے پروردگار ! حق كا فیصلہ كر دیجیے اور ہمارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے ، اور جو باتیں تم بناتے ہو ان كے مقابلے پر اسی كی مدد دركار ہے ۔
۳. توحید
كائنات كی اس كھلی كتاب میں ربّ العالمین كی وحدانیت كے بے شمار كھلے ہوئے دلائل كی طرف توجہ دلائی گئی ہے كہ یہ سب اللہ تبارك وتعالی نے حكمت كے تحت اور انسان كے غور و فكر اور حصول عبرت كے لیے پیدا كیے ہیں۔اور اس كائنات كی ہر چیز اللہ تبارك وتعالی كی تسبیح میں لگی ہوئی ہے ، سوائے كافر انسان كے جس نے اپنا وتیرہ ہی غفلت اور سركشی كو بنا لیا ہے۔ (۱۶ – ۲۰)
مشركین كے باطل نظریات كی تردید ہے اور ایك خالق و قادر كے وجود پر مختلف آفاقی دلائل ہمارے سامنے آتے ہیں۔
🌹دوسرا حصہ –سورة الحجّ ، مكمل، ۷۸آیات 🌹
سورة الحج میں سات نمایاں نكات ہمارے سامنے ہیں:
۱. قیامت ۲. تخلیق انسان كے سات مراحل
۳. ملل اور مذاہب كے لحاظ سے چھے گروہ ۴. حضرت ابراہیم علیہ السلام كا اعلان حج
۵. مؤمنوں كی چار علامات ۶. جانوروں كی قربانی كی حقیقت
۷. جہاد كی اجازت
۱. قیامت
قیامت كی ہولناكیوں كی دل دہلان دینے والی منظر كشی كی گئی ہے ۔ پھر اس كے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر انسان كی تخلیق كے مختلف مراحل سے استدلال كیا گیا ہے كہ جو انسان ان مراحل سے گزرتا ہے وہ كیسے كہہ سكتا ہے كہ اللہ دوبارہ پیدا كرنے كی قدرت نہیں ركھتا۔
۲. تخلیق انسان كے سات مراحل
تخلیق انسان كے سا ت مراحل بیان كیے گئے ہیں : (۱) مٹی: كیونكہ تمان انسانیت كے باپ حضرت آدم علیہ السلام كو بلا واسطہ مٹی سے پیدا كیا گیا ، اور بالواسطہ تو ہر انسان كا مٹی سے تعلق ہے ۔
(۲) منی: ہر انسان منی اور نطفہ سے پیدا ہوتا ہے ، (۳) خون كا لوتھڑا: یہ نفطہ ماں كے پیٹ میں خون كے لوتھڑے كی شكل اختیار كر لیتا ہے ، (۴) پھر اس سے بوٹی بنتی ہے ، (۵) پھر بچہ پیدا ہوتا ہے جو كہ حواس كے اعتبار سے كمزور ہوتا ہے ، (۶) وہی بچہ جوان ہوتا ہے اور قوت و عقل كے كمال كو پہنچ جاتا ہے ، (۷) ساتویں مرحلے میں یا تو وہ جوانی ہی مین انتقا ل كر جاتا ہے یا اتنا بوڑھا ہو جاتا ہے كہ اس پر بچپنے كا گمان ہوتا ہے۔
۳. ملل اور مذاہب كے لحاظ سے چھے گروہ
ملل اور مذاہب كے لحاظ سے چھے گروہوں:مسلمان، یہودی، صابی (ستارہ پرست)، عیسائی، مجوسی (سورج، چاند اور آگ كا پجاری)، مشرك (بت پرست) كا تذكرہ ہے اور یہ بتایا گیا ہے كہ اللہ تعالی ہر چیز پر گواہ ہے وہ ان سب كے درمیان قیامت كے دن فیصلہ كرے گا۔
۴. بیت اللہ كی تعمیر اور حج كا بیان
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ كے حكم سے بیت اللہ كی تعمیر كی، اس كے بعد حج كا اعلان كیا ، حج اور شعائر حج كی مناسبت سے یہ بھی بتایا گیا كہ اللہ كے محارم كی تعظیم ، ایمان كی علامات میں سے ہے ۔
۵. حقیقی مؤمنوں كی چار علامات
حقیقی مؤمنوں كی چار علامات: (۱) اللہ كا خوف، (۲) مصائب پر صبر، (۳) نماز كی پابندی، اور (۴) نیك مصارف میں خرچ كرنا ۔ كا بیان ہے ۔(۳۵)
۶. جانوروں كی قربانی كی حقیقت
جانوروں كی قربانی كا حكم دینے كے بعد بتایا گیا ہے كہ ان كا خون او رگوشت اللہ تك نہیں پہنچتا بلكہ اللہ تك تو بندوں كا تقوی پہنچتا ہے ۔ (۳۷)
۷. جہاد كی اجازت
مسلمانوں كے تحمل و برداشت كے بعدبھی جب مشركین كی شرارتوں اور زیادتیوں كا سلسلہ جاری رہا تو سورة حج كی آیت ۳۹ كے ذریعے قتال كی اجازت دے دی گئی ہے، ساتھ ہی جہاد كی حكمت بھی بیان كی گئی ہے ۔
تحریر کے بارے میں اپنی رائے بھیجیں